
آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے پیر کی دیر گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ آذربائیجان کا اپنی سرحدوں سے باہر، بشمول غزہ، امن مشن کے لیے اپنی فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
آذری ٹیلی ویژن چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے علیئیف نے بتایا کہ آذربائیجان نے غزہ میں امن فوج (مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس – ISF) کے آپریشن سے متعلق سوالات کی ایک فہرست کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا۔ علیئیف نے کہا، "ہم نے 20 سے زائد سوالات پر مبنی ایک سوالنامہ تیار کر کے امریکی فریق کو فراہم کیا تھا۔ تاہم، امن فوج میں کسی قسم کی شرکت کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ میں آذربائیجان سے باہر کسی بھی قسم کی جنگی کارروائیوں میں شرکت پر بالکل غور نہیں کر رہا ہوں۔”
آذری حکومتی ذرائع نے گزشتہ نومبر میں کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتی، آذربائیجان ایسی کسی کارروائی کے لیے فوجی فراہم نہیں کرے گا۔
دریں اثنا، ان بات چیت میں شامل سفارت کاروں نے پیر کو ‘ڈان’ کو بتایا کہ گہرے تحفظات اور عوامی ردعمل کے خوف کے باوجود، غزہ کے امن عمل سے وابستہ زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک چاہتے ہیں کہ مجوزہ ISF کامیاب ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایسی فورس ہی محصور علاقے میں فلسطینیوں کی سلامتی اور بقا کو یقینی بنا سکتی ہے۔
اس عمل سے براہِ راست وابستہ ایک مسلم ملک کے سفارت کار نے کہا، "اسرائیل غزہ میں 70,000 سے زائد افراد کو شہید کر چکا ہے، اور صرف واضح مینڈیٹ رکھنے والی ایک بین الاقوامی فورس ہی اس نسل کشی کو روک سکتی ہے۔” ایک اور سفارت کار نے اعتراف کیا کہ ISF میں شمولیت حصہ لینے والی ریاستوں کو انتہائی مشکل پوزیشن میں ڈال دے گی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ متبادل اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم ISF میں شامل ہوئے تو ہمیں بہت مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن متبادل اس سے بھی بدتر ہے—یعنی غزہ میں مسلسل خونریزی، جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔”